باب: اعجاز نبویﷺ
حلقہ (18)  مبحث ششم: موانع حمل کا دائرۂ اثر  [3 ـ 3]

 

استدلال :

دکتور محمد علی البار نے اپنی کتاب (خلق الانسان۔۔۔) میں [الف] (1) اور [ج] (2)کی حدیث سے استدلال کیا ہے،  اور دکتور عبدالرحیم العبادی نے اپنی کتاب (العلم الحدیث حجۃ۔۔۔۔) میں [ب اور ج] (3) کی حدیث سے استدلال کیا ہے، اور دکتور محمود یان العوضی نے اپنے مقالہ (الجوانب الطبیعیۃ للعزل۔۔۔۔)(4) میں [د] کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ یہ سبھی لوگ جدید میڈیکل سائنس کے ساتھ اس بات پر متفق ہیں کہ موانع حمل کے مختلف وجوہات کے باوجود حمل واقع ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔

دکتور البار، گروپ [الف] کی حدیث پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ’’یہ مکمل معجزہ ہے ، اس کا تصور وہی شخص کرسکتا ہے جس نے منعِ حمل کے وسائل اور اس میں کامیابی کی شرحِ فیصد کا دراسہ کیا ہو۔ منع حمل کے وسائل زمانۂ قدیم ہی سے مشہور و معروف ہیں جیسے: عزل۔ اور اس کے جدید وسائل بھی پائے جاتے ہیں مثلاً : منعِ حمل کی گولیاں، بچہ دانی میں داخل کی جانے والی اسپرنگ، مرد و عورت کے لیے میکانکی رکاوٹیں، مرہم، اندامِ نہانی پر چڑھانے والی علاجی بتی ، اور آخری دوا کے طور پر  نسبندی کے لیے بچے دانی کا آپریشن تاکہ حیواناتِ منویہ بیضہ تک نہ پہنچ سکیں۔‘‘ اور پھر انھوں نے دوسرے مقام پر اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

پھر وہ لکھتے ہیں : ’’لیکن یہاں ہم حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے معجزہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ موانعِ حمل کے تمام اسباب و وسائل کو اپنانے کے باوجود آپ اس بچے کی پیدائش کو نہیں روک سکتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘ اور وہ گروپ [ج] کی حدیث کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں : ’’ کتاب (تنظیم الحمل) کے مولفین عزل کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ زمانۂ قدیم ہی سے مانعِ حمل کا ایک مشہور و معروف طریقہ رہا ہے۔۔۔۔۔ اور اس کتاب کے مولفین کہتے ہیں :  اس طریقہ کے اپنانے سے ناکامی کی شرح بائیس فیصد (22%) کے قریب ہوتی ہے۔

فی الحال ہم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ منعِ حمل کے اسباب و وسائل میں سے کوئی بھی وسیلہ اپنایا جائے تو اس میں ناکامی کی شرح موجود ہوتی ہے، اور ان رکاوٹوں کے باوجود اگر اللہ نے حاملہ ہونا اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے تو حمل استقرار پا جاتا ہے۔ بلکہ میرے پاس ایک مریضہ آئی اور اس نے  بتایا کہ اس نے نسبندی کروالیا تھا اس طرح اس کی بچے دانی کے دونوں پردوں کو کاٹ کر انھیں آپس میں جوڑ دیا گیا تھا، اور پھر اس کے چند مہینوں بعد وہ حاملہ ہوگئی۔ اور یہ چیز طبی کتابوں اور رسالوں میں پائی جاتی ہے۔ اور اگر یہ آپریشن اندامِ نہانی کے راستے سے ہو تو ناکامی کی شرح پچپن فیصد (55%) ہوتی ہے، لیکن اگر یہ آپریشن ماہر سرجن کے ہاتھوں پیٹ چاک کرکے کی جائے تو ناکامی کی صرف ایک فیصد (1/%) باقی رہتی ہے۔

اور بہت سے محققین نے ماہر سرجنوں کے ذریعہ آپریشن کرنے کے بعد کی شرحِ ناکامی کو تین پوائنٹ سات فیصد (3.7%) نوٹ کیا ہے، بلکہ بچہ دانی کے آپریشن کے بعد بھی حمل ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس بنا پر اس سائنسی حقیقت کی رپورٹ کی موجودگی میں حدیثِ نبوی شریف ایک مکمل معجزہ ہے۔‘‘(5) انتہیٰ

دکتور محمود یان نے ایک ایسی عورت کا ذکر کیا ہےجس کی کئی بار نسبندی کی گئی پھر بھی اس کے باجود وہ قدرتی طور پر حاملہ ہو گئی۔ وہ کہتے ہیں: ’’اس موضوع سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حکمت کی علامات میں سے یہ ہے کہ : عزل حمل کی روک تھام کے لیے نفع بخش نہیں ہے۔لیکن  نس بندی کراکےدونوں بوقوں کو مربوط کرکے اور بچہ دانی کے پھیلاؤ،نیز بچہ دانی کے رگ کو کانٹنے کے باوجود بہت  نادرحالات میں ہی حمل قرار پاتا ہے۔ ترمذی کی روایت اس کو مؤکد کرتی ہے۔۔۔۔‘‘ حدیث ذکر کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں : ’’ اس حیران کن پریشانی کی وضاحت ہم اپنے تجربے کی روشنی میں کرتے ہیں :

محترمہ ی. ج. کی عمر اٹھائیس سال ہے، وہ تین بچوں کی ماں ہیں اور آپریشن کے ذریعہ ان کی نس بندی کردی گئی تھی۔ ۱۵/اگست ۱۹۷۸؁ء کو وہ اپنی ماہانہ کورس (M.C.) کے اکیسویں دن میں تھیں۔۔۔ اور ۱۴/اگست ۱۹۷۸؁ء کو ان کے حمل کے امکانیہ  کا ٹیسٹ کیا گیا جو کہ منفی تھا۔

نسبندی کے وقت  رحم میں وسعت دی گئی اور اس کے رگ کو کاٹ دیا گیا تاکہ یقینی طور پر بچہ دانی  ہر طرح کی محتویات سے خالی ہوجائے، اور پھر آپریشن کے ایک ہفتہ بعد اس کے بچہ دانی کی جانچ کی گئی تو وہ اپنی قدرتی حالت پر تھی، اور اس کے بچہ دانی کی اندرونی حالت تحلیل کرنے کے بعد  یہ بات سامنے آئی  کہ وہ حیض آنے کی آخری حالت میں ہے اور وہاں دونوں بوق (ڈمبواہی ٹیوب، Depth tubes) کے کچھ اجزاء پائے جارہے ہیں، پھر  دو ماہ بعد وہ حیض کے انقطاع کی شکایت لے کر آئی اور وہ فکر مند تھی، پھر اس کی جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہے اور بچہ دانی کا سائز اس حمل کو اٹھائے ہوئے ہے جس کی عمر نو ہفتوں کی ہو چکی ہے، اور یقینی جانکاری کے لیے الٹرا ساؤنڈ بھی کرکے اس کی جانچ کی گئی،  باوجود کہ نسبندی والی سرجری سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف ممکنہ حمل ہی کو نہیں دور کرتا ہے بلکہ رحم (بچہ دانی) کی جھلی کو بھی ختم کردیتا ہے جہاں زرخیز بیضہ استقرار پاتا ہے۔ لیکن ان سبھی  چیزوں کے برخلاف وہ قدرتی طور پر حاملہ ہو گئی تھی،  اور ۲۱/اپریل ۱۹۷۹؁ء کو اس کے یہاں قدرتی طور پر صحیح سالم بچے کی ولادت ہوئی جس کا وزن تین کلو دوسو ساٹھ گرام (3260 g.) تھا، پھر ولادت کے چار ماہ بعد ہم نے نسبندی کے نتیجہ کو جاننے کا ارداہ کیا اور ہم نے رحم نیز دونوں بوقوں کا رنگین اکسرے لیا جس سے واضح ہوا کہ دونوں بوق مکمل طور پر بند ہیں۔‘‘ انتہیٰ

حوالہ جات و حواشی :


(1) - خلق الإنسان بين الطب والقرآن، ص (388، 509، 512، 521، 525، 526).

(2) - مرجع سابق، ص (388، 389)، اور انہیں سے محمد كامل عبد الصمد (الإعجاز العلمي في الإسلام – السنة) ص (173) نے بھی نقل کیا.

(3) - العلم الحديث حجة للإسلام أم عليه، (2/137).

(4)اس مبحث کی احادیث میں سے گروپ [ج] کی حدیث کو بیان کرتے وقت اس کے مرجع کو ذکر کیا جاچکا ہے.

(5) - خلق الإنسان بين الطب والقرآن، ص (388).

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث