حلقہ(۴)

فوائد حدیث( 3 - 3 )

 

1۔مومن اللہ کے احکام کے آگے سر جھکاتا ہے،اور اللہ کی طاعت ومحبت کو (دنیا) کی ہرچیز پر ترجیح وفوقیت دیتا ہےگرچہ نیک بیوی یا    تنہا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔چنانچہ  حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو جب اللہ رب العزّت کی طرف سے  اپنی بیوی ہاجرہ اوراپنے شیرخوار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو   بے آب وگیاہ وادی  میں جہاں  نہ کوئی  مانوس کرنے والا تھا اور نہ کوئی توشہ تھا  چھوڑنے کا حکم ہوا تو فورا اس پر لبیک کہا۔

۲۔ہاجرہ علیہا السلام اپنے شوہر کی مطیع وفرمانبردار اور اپنے رب پر کامل ایمان رکھنے والی تھیں ،اوراس پرمکمل بھروسہ کرنے والی تھیں،اس طور پر کہ انھوں نے صبروتحمّل سے کام لیا،اور وادی غیرذی زرع  میں جہاں کوئی  مانوس کرنے والا  تھا نہ کوئی توشہ تھا اقامت کیلئے راضی ہوگئیں،بعد اسکے  کہ  جب انہیں یہ اطمئنان ہوگیا کہ بےشک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں اس  وادی میں اللہ کے حکم سےچھوڑاہے۔چنانچہ حدیث میں ہے:

" ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا, فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ, فَقَالَتْ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ؟ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ مِرَارًا, وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا, فَقَالَتْ لَهُ: آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: إِذَنْ لَا يُضَيِّعُنَا ثُمَّ رَجَعَتْ".

‘‘...پھر ابراہیم علیہ السلام (اپنے گھر کے لیے)روانہ ہوئے۔ اس وقت حضرتاسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا کہ اے ابراہیم! اس وادی میں جہاں کوئی بھی آدمی اور کوئی بھی چیز موجود نہیں، آپ ہمیں چھوڑکرکہاں جارہےہیں؟ انہوں نےکئی دفعہ اس بات کودہرایالیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف دیکھتے نہیں تھے۔ آخر ہاجرہ علیہا السلام نےپوچھاکیااللہ تعالیٰ نےآپ کو اس کاحکم دیاہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےفرمایاکہ ہاں۔ اس پر ہاجرہ علیہا السلام بول اٹھیں کہ پھراللہ تعالی ٰہماری حفاظت کرےگا، وہ ہم کوہلاک نہیں کرےگا۔ چنانچہ وہ واپس  آ گئیں...’’۔

اور اسی طرح نیک وصالح عورت اپنے رب کے حکم پر لبیک کہنے والی ہوتی ہے،اور طاعت الہی کے کاموں میں اپنے شوہر کی مددگار ہوتی ہے۔

۳۔ ابر اہیم علیہ السلام اپنی  وفاشعار بیوی  اور اپنے چھوٹے بچّے کو کھجور کے تھیلے اور پانی کے مشکیزہ دے کر چھوڑ دیتے ہیں ،اور پھر ان کے لئے دعا فرماتے ہیں :

{رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ } [إبراهيم: 37،]

‘‘اے ہمارے رب! بیشک میں نےاپنی اولاد (اسماعیل علیہ السلام) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والےگھرکےپاس بسا دیاہے،’’۔

اس کے ذریعہ ابراہیم علیہ السلام ہمیں اس بات کی تعلیم دے رہے ہیں کہ ہم کو اسباب  اور دُعا دونوں اپنانا چاہئے۔

۴۔اللہ رب العزّت نے حجّاج ومعتمرین کیلئے صفاومروہ کے درمیاں سعی کو مشروع قراردیا ہے تاکہ اپنی ماں ہاجرہ علیہا السلام کے ساتھ گزرے واقعات سے نصیحت حاصل کریں،چنانچہ یہ عمل قیامت  تک کیلئے   طریقہ عبادت  بن گیا، جس کے ذریعہ اللہ کا تقرّب حاصل کیا جاتا ہے۔

۵۔اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ پانی کے ختم ہوجانے کے بعد پانی تلاش کرتی ، اور اسباب کو اختیار کرتی اور صفا ومروہ کے درمیان کئی بار چکر لگاتی   تھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور انکے بچے کیلئے پانی  (زمزم) مہیا کردیا ۔

۶۔اللہ رب العزّت نیک عمل کرنے والوں کے اجرکو ضائع نہیں کرتا،چنانچہ حضرت  ابراہیم علیہ السلام نے مکہ میں رب کے حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے،اس پر ایمان وبھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کو چھوڑدیا، اور اس وقت  وہاں کوئی انسان نہ بستا تھا،تو اللہ نے ان کے بیوی اوربچے کو ضائع نہیں کیا، بلکہ انہیں اپنی طرف سے روزی عطاکی، انکے لئے زمزم کا مبارک پانی جاری کردیا جس سے آج تک لوگ سیراب ہوتے ہیں،اور اللہ نے ان کے پاس قبیلہ جرہم کے لوگوں کو ان کے پاس بساکر انہیں مانوس کردیا اور ان کی وحشت کو دور فرمایا۔

۷۔انسان کے لئے کسی دوسرے سے ان چیزوں میں مددوفریاد طلب کرنا جائز ہے جسکی وہ قدرت رکھتا ہے جیسا کہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے کیا،رہی بات میت اور غائب  شخص سے سوال کرنا،یا کسی ایسی چیز کا سوال کرنا جس پر انسان قادر نہ ہو تو یہ جائز نہیں ہے بلکہ یہ شرک  میں سے ہے۔

۸۔بے شک اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کو چنا   ،اور ان کی نسل سے انبیاء ورسل بنائے  ،توابراہیم علیہ السلام  اپنے بیٹے کیلئے ایسی بیوی سے کیسے راضی ہوسکتے تھے جو روح    کے بجائے صرف جسم کے لئے جیتی ہو،اور اسکا مقصد صرف کھانا  پینا ہو،چنانچہ اپنے مہمان  جو اسکےشوہر کے باپ ہیں  انہیں حقیر سمجھتی ہے ، اور اپنی رب کی نعمت کی نا شکری کرتی ہے، اور اپنی  برے معیشت ورزق کی شکایت کرتی ہے۔ اسی لئے  ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے اسے جدا کرنے اور اس سے چھٹکارا پانے کی طرف اشارہ کیا۔

۹۔اسماعیل علیہ السلام کی دوسری بیوی نیک وصالح تھیں، جو اپنے مہمان کا احترام کرنے والی تھیں، اور اپنے رب کے نعمت کا شکر کرنے والی تھیں، اسی لئے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اسے روکنے اور اسکی رعایت ودیکھ بھال کرنے کی طرف اشارہ کیا۔

۱۰۔نیکی وصبر کا  انجام بہتر ہوتا ہے، اور اسکا ہمیشگی ذکر ہوتاہے،  چنانچہ وہ جگہ جہا ں اسماعیل علیہ السلام کی والدہ      ہاجرہ علیہا السلام نے   قیام کیا ،وہ نہایت ہی خشک تھا  اسکے بعد امن والا حرم بن گیا،اس میں زمزم کا مبارک پانی ہے، اسکی طرف لوگوں کا دل مائل ہوتا ہے، وہاں (ہر قسم کے  تازے) میوے وپھل آتے ہیں اور ہردور دراز راستے سے حج کے لئے لوگ  اسکا قصد کرتے ہیں ،تاکہ دنیوی واخروی منافع کا مشاہدہ کرسکیں۔

۱۱۔ اولاد کی اصلاح ودرستگی  میں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی توفیق کے بعد ۔ اچھی تربیت کا  بہت اثر ہوتا ہے، اور یہ چیز اسماعیل علیہ السلام کا اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کے حکم کی بجاوری میں واضح طور پر نمایاں ہے،اسماعیل علیہ السلامکا اپنی بیوی کو طلاق دینا، او ر اپنے والد کی کعبہ کی تعمیر میں مدد کرنا،اور اس سے قبل جب انکے باپ نے ان سے کہا:

((يَابُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَاأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ)) [الصافات:102].

‘‘اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے’’۔

12۔اللہ تعالیٰ سے نیک اعمال کی قبولیت کے لئے سوال کا مشروع ہونا،چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھ سے کعبہ کی تعمیر کی اور اسماعیل علیہ السلام انہیں پتھر دیتے تھے،اور وہ دونوں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کر رہے تھے کہ ان کے اس عمل کو قبول فرمائے۔

ارشاد باری ہے:

((وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ * رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ)) [البقرة:127-128].

‘‘اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بیشک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے، اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک  جماعت  کو خاص اپنا تابع فرمان بنا اور اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما،بے شک  تو توبہ قبول فرمانے وا اور رحم وکرم کرنے وا ہے’’۔

چنانچہ  اللہ رب العالمین نے ان سے اس دعا کو قبول فرمایا،اور انکے قدر و درجات کوبلندوبالا کیا۔

 

 

 

التعليقات  

#67 فوائد حدیث( 3 - 3 )Deandre 2021-10-16 07:06
Hi to every body, it's my first go to see of this webpage; this website includes amazing and genuinely fine data for visitors.



Review my web page :: 온라인카지노: https://casinolos.xyz
اقتباس
#66 فوائد حدیث( 3 - 3 )Jaclyn 2021-10-16 06:27
It's actually a great and helpful piece of info. I'm glad that you simply shared this useful information with us.
Please keep us up to date like this. Thanks for sharing.


Feel free to visit my website; 온라인카지노: https://casinoliz.xyz
اقتباس
#65 فوائد حدیث( 3 - 3 )Jarred 2021-10-16 02:16
Have you ever considered creating an ebook or guest authoring on other sites?
I have a blog based upon on the same information you discuss and would
really like to have you share some stories/information.
I know my subscribers would value your work.

If you're even remotely interested, feel free to send me
an e mail.

Feel free to surf to my webpage - 온라인카지노: https://casinosat.xyz
اقتباس
#64 فوائد حدیث( 3 - 3 )John 2021-10-15 23:45
I am actually thankful to the holder of this website who has shared
this impressive paragraph at at this time.

my website; 온라인카지노: https://casinowhat.xyz
اقتباس
#63 فوائد حدیث( 3 - 3 )Maybelle 2021-10-13 17:14
Today, I went to the beach front with my children. I found a sea
shell and gave it to my 4 year old daughter and
said "You can hear the ocean if you put this to your ear." She placed the shell to her ear and screamed.
There was a hermit crab inside and it pinched her ear.
She never wants to go back! LoL I know this is totally
off topic but I had to tell someone!

Take a look at my website - 우리카지노: https://ourcasinopp.xyz
اقتباس
#62 فوائد حدیث( 3 - 3 )Lorraine 2021-10-11 23:08
I really like what you guys are usually up too.

This kind of clever work and coverage! Keep up
the wonderful works guys I've included you guys to my personal blogroll.


Feel free to surf to my web site :: 우리카지노: https://casinova.xyz
اقتباس
#61 فوائد حدیث( 3 - 3 )Casie 2021-10-11 05:02
Hello i am kavin, its my first time to commenting anyplace, when i read this post i thought i could also make comment due to
this brilliant article.

Stop by my web blog: 우리카지노: https://ourcasinoyy.xyz
اقتباس
#60 messageMobile Application 2021-10-08 05:48
Thanks for all of your labor on this site. My mum takes pleasure in setting aside time for internet research and it's obvious why. All of us learn all of the compelling mode you render advantageous tips and hints by means of the web blog and even welcome participation from visitors on that content plus our favorite simple princess is in fact being taught so much. Have fun with the rest of the year. You have been conducting a good job. blog
I always use url shortener
It is very helpful.
اقتباس
#59 فوائد حدیث( 3 - 3 )Viola 2021-09-15 01:29
Thanks for finally talking about >فوائد حدیث( 3 -
3 )
اقتباس
#58 فوائد حدیث( 3 - 3 )Rudolph 2021-06-02 22:01
That is a ery goood tip especially tto those fresh to the blogosphere.

Simple but very accurate info… Appreciate
your sharing this one. A must read article!
Dapoxetin erfahrung web
site: http://yunke029.com/home.php?mod=space&uid=317249&do=profile&from=space delgra
اقتباس

أضف تعليق

كود امني
تحديث