اخلاق کی ماہیت وحقیقت  

 

 

 

مختلف ثقافتوں کی حامل دوسری قوموں کےہاں اخلاق کے مفہوم  کےبارے میں غوروفکر کرنے والے کو پتہ چلتا  ہے کہ ان کے نزدیک اخلاق صرف سلوک وبرتاؤ  کا نام ہے۔

 

 اور یہ اخلاق کے مفہوم کی تعبیر میں شديد کمی  ہے،اسی وجہ سے  وہ قومیں  (اخلاقیات)  کی بلندیوں پر فائز ہوتی ہیں اور نہ ہی  ان کے درمیان فضائل  کا فروغ ہوتا ہے ۔

 

 جہاں تک  اسلام میں  اخلاق کے مفہوم کا تعلق ہے، تو اس کا مفہوم بہت زیادہ وسیع اور جامع ہے۔اس کی وضاحت اخلاق کے بارےمیں ہماری مختلف تعبیروں  سے ہو تی ہے، اخلاق فاضلہ کے حامل شخص کی توصيف میں  استعمال ہونے والی عبارتوں میں سے : صادق (سچا) ،  مہربان و رحم دل، مشفق ، شریف وسخى،  مخلص، مددگار، خاكسار،  اپنے مسلم بھائیوں سے محبت کرنے والا، خیر خواہ وہم درد . . .  وغیرہ ہیں۔

 

 اگر ہم ان اخلاقيات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں کچھ کا تعلق فکر(سوچ ونظريہ) سے ہے ، اور کچھ کا تعلق احساسات و جذبات سے ہے،  اور کچھ کا تعلق سلوک و برتاؤ  (رویے) سے ہے۔

 

 چنانچہ جو فکر سلیم کا حامل ہوتا ہے وہ نیک احساسات و جذبات  رکھتا ہے اور درست رویہ اپناتا ہے، اور جو شخص  بیمارسوچ  اور گھٹیا  فکر کا حامل ہوتا ہے وہ برے احساسات و جذبات رکھتا ہے اور كج رویہ اپناتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

(وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا)

 

"اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے۔"(1)

 

 اور اسی  سے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:  ’’...سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم صحيح رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، جان لو! وہ (ٹکڑا)  دل ہے۔“ (2)

 

علامہ ابن رجب ـ   رحمہ اللہـ مذکورہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ :  "اس حدیث میں  یہ اشارہ ہے  کہ بندے کے اعضاء وجوارح  کے حرکات   کی   درستی ،   اس  کا  حرام چیزوں سے اجتناب کرنا اور  شبہات سے بچنا ‘  اس کے دل کی حرکت کی  درستی کےحساب  سے ہے،  اگر اس  کا دل  درست اور سالم ہوگا ، اس میں صرف اللہ کی محبت،  اور اس   چیز کی محبت   ہوگی جو اللہ  تعالیٰ   کو محبوب ہے، اور اللہ تعالیٰ کی خشیت  اور ان چیزوں میں واقع ہونے کا  ڈر اور خوف  ہوگاجنہیں وہ نا پسند کرتا ہے ، تو  اعضاء و جوارح کے سارے  حرکات  درست  ہوں گے۔  اور اس کے نتیجہ میں حرام چیزوں سے اجتناب ممکن ہوگا۔ اور اگر دل فاسد اور خراب ہوگا،  اس پر خواہشِ نفس کی اتباع  اور اس کی پسندیدہ چیز کی چاہت کا  تسلط ہوگا،گر چہ اللہ تعالیٰ اس کو ناپسند کرتا ہو،  تو اس کے تما م اعضاءو جوارح کے حرکات  فاسد و خراب  ہوجائیں گے۔ اوروه  ہوائے نفس  کی اتباع  کےاعتبار سے  ہرگناہ ونافرمانی  اور شبہات کی طرف آمادہ ہو جائیں گے۔"(3)

 

نيز ہمیں اس حدیث شریف پر غور کرنا چاہیے، فرمان نبوی ہے : ’’تم اس وقت تك جنت میں نہیں جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہیں  لاؤگے،اور تم  مومن نہیں ہو سکتے  جب تک تم  ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے۔ كيا میں تمھیں  وہ چیز نہ بتلاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟  (وہ یہ کہ ) تم  آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔‘‘(4)

 

سلام كوپھیلانا  ایک ایسا  رويہ ہے  جوجذبات (محبت)  کو جنم دیتا ہے  اور یہ دونوں ایمان  کے اضافہ  میں  اثر ڈالتے ہیں۔

 

  ہم اپنے حقیقت  حال کا جائزہ لیتے ہیں  تو دیکھتے ہیں کہ اخلاقی حالات‘ احساسات و جذبات  پر اثر ڈالتے ہیں ، چنانچہ الجھن زدہ شرمیلے شخص  کو اپنى پوزیشن  کو تبدیل کرنے   کی ضرورت ہوتی ہے ، جیسے :سر کو اٹھانا یا بلند کرنا،  قد وقامت كو درست كرنا  تاکہ  الجھن اور پریشانی کے احساسات  پر غلبہ پاسكے،نيز  اپنے طرزِ عمل میں جارحانہ رویہ  اپنانے والےزیادہ تر لوگ‘ انتقام اور جرائم کی سوچ کے ساتھ ساتھ‘ ان لوگوں کے خلاف نفرت  کے جذبات ركهتے ہیں جن سے  وہ عداوت رکھتے ہیں۔

 

چنانچہ سلوک  یا برتاؤ‘ افکا رونظريات اور احساسات و جذبات  کی  عکاسی کرتے ہیں،  اور ان دونوں کے نتیجے میں  ظاہرہوتے ہیں۔

 

 اس طرح ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اخلاقیات کی تعریف یہ ہے کہ:

 

"  نفس کی وہ راسخ   ہیئت جس سے افعال  نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ صادر ہوتے ہوں ، اس میں غور وفکر اور سوچ  بچارکی ضرورت نہیں  ہوتی"۔ (5)

 

تعریف  کی  شرح:

 

راسخ    ہیئت  :   یہ عبارت ہے اس فکر  و سوچ  سے جس کا وہ حامل ہوتا ہے، اور اس  احساس و جذبات سے جو وہ اپنے اندر سموئے ہوئے  ہوتا ہے۔

 

افعال: یعنی  سلوک  و برتاؤ،  رویہ ،  طرز عمل۔

 

سہولت وآسانی سے:  یعنی  خود کار طریقے سے۔

 

بلاغور وفکر اور بغیر سوچے سمجھے:  یعنی عقل کو  کام میں لائے بغیر اور انجام کار کے بارے میں بناسوچ بچار کیے۔

 

چنانچہ جو شخص دوسروں کی نظروں سے حیا کرتے ہوئے  اپنے غصے کو پی جاتا ہے  اور معاف کردیتا ہے ،  تو وہ حلیم (بردبار) نہیں سمجھا جائے گا ،   اور جس شخص کو شرمندگی اور شہرت خرچ کرنے پر آمادہ کرتی ہے اسے سخی نہیں شمار کیا جائے  گا . . . وغیرہ۔

 

یہ اعمال و  افعال ،  احساس وجذبات اور فکر وسوچ   اگر اچھے ہیں  تو اخلاق  اچھا ہو گا، اور اگر وہ برے ہوں گے تو اخلاق بھی برا ہوگا۔

 

 

 

حواشی:

 

(۱)  سورہ اعراف، آیت  نمبر ۵۸۔

 

(۲)  اس حدیث کی تخریج  بخاری نے باب" فضل من استبرأ لدينہ "، حدیث نمبر ۵۲ـ ۱/۲۸،  اور مسلم، باب" أخذ الحلال وترك الشبهات"،  حدیث نمبر ۱۵۹۹ـ۳/۱۲۱۹ میں کیا ہے۔

 

(۳)جامع العلوم والحکم۱/۲۱۰۔

 

(۴) اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے باب" لا يدخل الجنۃ إلا المؤمنون "۲/ ۳۵  میں   کیا ہے اور ساتھ میں نووی کی شرح  ہے۔

 

(۵) التعریفات للجرجانی ،صفحہ ۱۰۱۔

 

أضف تعليق

كود امني
تحديث